ڈائری کا ایک ورق

ڈائری کا ایک ورق تحریر شفیق زادہ ایس احمد

سر گوشی
میری ڈائری میری سہیلی
دسمبر 2015 کی کوئ تاریخ
زندگی میں چھوٹی سی تبدیلی ایک بڑے بھونچال کا سر چشمہ ثابت ہو سکتی ہے ، کم از کم میری چھوٹی سےنوکری نے تو یہی ثابت کیا ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی ایک اسکول کو جوائن کیا ہے ۔ مگر اس مختصر عرصے میں ہی طبیعت اتنی تنگ آگئی تھی روز روز کی جھک جھک سے کچھ نہ پوچھو۔ پہلے تو ایمان سے ٹھاٹ سے نیند پوری کرتی تھی۔ چاہے اس میں کمی اپنی وجہ سے ہو یا میاں کے بڑھاپے میں بڑھتے چونچا ل کے باعث ۔ انپی مر ضی سے اُٹھ کر پھر ماسی مِیڈیا سے پورے گھر کا کام کرواکر اطمینان سے ’ہم ٹی وی‘ پر ممنوع موضوعات پر بولڈڈرامے بنا روک ٹوک دیکھا کرتی۔ شام کو بھی بچے اسکول ورک، ہوم ورک، پروجیکٹ اور فیس بک پر غیبت وغیرہ میں لگے رہتے تھے اور میں اسی دوران جلدی سے جِم بھی ہو آتی تھی۔ آٹھ سوا آٹھ بجے بچوں کو کھانا کھلا کر، ڈانٹ پلا کر ، سُلا کر خود بھی میاں کے ساتھ تھوڑا بہت زہر مار کر لیتی ۔ برتن سمیٹتے سمٹاتے یہ بھی چپٹنے چپٹانے لگ جاتے تو میں بھی سونے لیٹ جاتی۔ دو ڈھائی گھنٹے میں نیند آ ہی جاتی اور گیارہ بجے کے قریب ہم لوگ سو بھی چکے ہوتے تو صبح آنکھ بھی آرام سے کھل جایا کرتی تھی۔ ہائے کیا دن تھے ، اُف!
مگر اب تو یہ حال ہے کہ چار بجے تھکن سے چور لڑکھڑا تے گھر میں داخل ہوتی ہوں تو سب سے پہلے بچوں کی چیں چیں ، چخ چخ سننے کو ملتی ہے جو شام ڈھلے تک جاری رہتی ہے۔ ان سے جان چھوٹتی ہے تو میاں کی سرگوشیاں بھیجے کا ملیدہ بناناشروع کر دیتی ہیں جو رات تک جاری رہتیں ۔ سچ کہا تھا ہماری چندا چچی نے کہ اکلوتے مرد سے شادی نہیں کرنی چاہئے ورنہ تمام زندگی آیا بن کر پالنا پڑتا ہے۔ ہمارے والے تو پالنے میں بھی منہ پھلائے رہتے ہیں جب تک کہ منہ میں ان کا پسندیدہ پکوان نہ گھسیڑ دوں، رال ٹپکتی ہی رہتی ہے۔ ندیدے پن کی بھی انتہا ہے۔ ماسی مِیڈیا نے بھی شام کو آنے سے انکار کر دیا ہے، کہتی ہے ’’ بوائے فرینڈ کو پسند نہیں کہ جب وہ گھر آئے تو میں موجود نہ ہوں‘‘۔ کمینی کہیں کی! کسی نے ذیادہ پیسے دیے ہونگے تو اسی طرف پھسل گئی ہو گی۔ اب تو چار بجے گھر میں گھسنے کے بعد، صفائی شروع کرتی ہوں ا ور ساتھ ہی شام کے کھانے کی تیار ی بھی چل رہی ہوتی ہے۔ بچوں کے قضیئے نمٹانا بھی میرا ہی کام ہے، میں تو فیصلہ صادر کر دیتی ہوں، معزز عدالت کی طرح ، عملدرامد ہو کیا کچھ برامد نہ ہو، بھاڑ میں جائے، اس سے ذیادہ انصاف کی تحریک میرے اندر نہیں ہے۔ میں کونسا کسی بحالی تحریک میں بھگا کر لائی گئی ہوں، اس گھر میں باقاعدہ بیاہ کر برامد کیا گیا ہے مجھے، وہ بھی کسی این آر او کے بغیر۔ تو بھلا میں کیوں اوقات سے بڑھ کر بڑھک مارکر اپنا بیڑہ غرق کروں۔ بچوں کو بھی اب بڑا ہوجانا چاہئے ، کب تک باپ کی طرح بچّہ بنیں رہیں گے۔ خیر ،ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ کھانا کھلانے کے وقت کمر تختہ ہو رہی ہوتی ہے۔ چار سیزرین ک بعد کسی اور طرح کے پاؤں بھاری تو کیا سُن ہونے کے تصور سے بھی کانپ جاتی ہوں، مگر یہ آسان سی بات اِن کے بھیجے میں کون پہنچائے۔ عشاء تک تمام کام کاج سے فارغ ہوجاتی ہوں، بلکہ یہ کہو کہ ایک مختصر سا وقفہ ملتا ہے تو وظیفہ پڑھنا شروع کر دیتی ہوں اور تسبیح ہاتھ میں پکڑے پکڑےہی بستر پکڑ لیتی ہوں۔ اس طرح تمام طرح کے وظائف سے فراغت کے بعد کو ئی بارہ بجے جو بے خبر سوتی ہوں تو یہ بھی نہیں پتہ چلتا کہ آج کل یہ نیٹ چے ٹنگ کر ہے ہیں یا آفس میں چھوڑے موبائل سے صرف ایس ایم ایس پرہی گذارہ ہے، میری بلا سے( لیکن پھر بھی؟)۔ ادھر اسکول کے بین الاقوامی بچے؟ اف توبہ،اتنے خاندانی کہ کسی شریف آدمی کو اپنے بچوں کی تربیت کرنی پڑے تو، ان سے بڑھ کر کوئی اور مثال نہیں ہو سکتی۔ یعنی، بس ان تمام حرکات سے اجتناب کرایا جائے جو یہ بچے کر تے ہیں، تربیت خود بہ خود ہو جائیگی۔میرا تو دل چاہتا ہے کسی سانچے میں ڈال کر ان جیسے گدھوں کو مرغا بنا دوں۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ اگر گدھوں کو مرغا بنا دوں تو باربرداری کون کرے گا۔ اس سےبڑھ کر یہ نقصان کے وقت پڑھنے پر ہمارے سیاست دان ،باپ کِسے بنائیں گے۔
آج بہت دنوں کے بعد شمسہ کا فون آیا تھا ۔ میں اس وقت باتھ روم میں ہارپک لگا رہی تھی ، میں نے تو کافی گھنٹیاں بجنے کا بعدفون اٹھایا اور ہانپتی سانسوں میں ہیلو ہیلو کہا ۔ اس نےپوچھا ’ اتنی دیر بعد فون پِک کیا‘ تو میں بولی’ بہت بزی ہوں‘۔ اس نے شاید مزاقاً یا طنزیہ سوال کیا’ کیوں ؟ کیا میاں نے چھٹی کی ہے۔جھوٹ تو میں بولتی نہیں ، صاف جواب دی کہ ’ جی نہیں ، وہ آج ہی تو کام پر گئے ہیں، سوچا میں بھی دوسرے کام نپٹالوں، کیا خبر لنچ پر پھر آ دھمکیں‘۔ بہت کمینی ہے ، اس نے کہا ’کرموں کا بھوگ بھگت رہی ہو‘۔ میری ہنسی چھوٹ گئی ’ بھوگ نہیں بُھوت‘
اچھا بھی اب مزید نہیں لکھا جاتا،بہت نیند آرہی ہے، انہوں نے باتھ روم کی لائٹ تو بند کر دی ہے ، اب کچھ دیر میں کمرے کی بھی ہونے والی ہے، ڈئیر ڈائری باقی باتیں کل، سایو نارا

دہائی
چند سال پہلے لکھا ہوا
میری ڈائری سے ایک ورقِ بیچارگی

ہمارے گھر میں آنے والے نئے مہمان نے ہمیں بس ’ شوہر ‘ بنا کر ہی رکھ دیا تھا۔ انگریزی میں پڑھیں تو ’شو‘ یعنی دکھاوا اور ’ ہر‘ مطلب اس کا، بس ہم ان کے ہی ہو کر رہ گئے جسے وہ بہت فخر سے اپنی ذاتی ملکیت کے طور پر ساتھ لیے پھرتیں ۔ ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ موصوفہ نے قبلہ والد صاحب کو اپنا ہمنوا بنا لیا تھا۔ اس ہمنوائی کی آڑ میں بڑے دھڑلے سے ہم کو دھمکیاں دی جاتیں جو کہ شاذ ہی کبھی ڈھکی چھپی ہوتیں۔ بہت ہی صاف وسلیس الفاظ میں نتائج کی ذمّہ داری اور کیے کا بھگتان ہمارے گلے ڈالا جاتا ۔ حد تو یہ کہ ہم اُن تمام پوشیدہ اور مخفی وارداتوں کے مبینہ سزوار حقدار ٹھہرائے جاتے جو ہم سے نہ کبھی سر زرد ہوئے یا جن کے بارے میں کبھی سوچا ہی ہو۔ والدہ محترمہ اور موجودہ ساسو ماں البتہ ہماری درپردہ حمایتی تھیں مگر توازنِ طاقت کا جھکاؤ موصوفہ کی طرف دیکھ کر وہ بھی اعلانیہ اِس حمایت کا اظہار نہیں کرتیں۔ خاص طور سے موصوفہ کے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے بعد تو ممتا کا شہد ہمارے حلق تک پہنچتا ہی نہیں۔ ساس بہوہم دو ہمارے دوکے مصداق سہیلی سہیلی کھیلنے میں مگن تھیں۔ اگر جنّت کا لالچ نہ ہوتا یا والدہ سیاست دان ہوتیں تو سائڈ بدلنے پر’ لوٹی‘ لقب پاتیں۔ ہم بھانپ رہے تھے کہ کہ چند سال اور گزریں گےاور ہم بھی قبلہ والد صاحب کی طرح آہنی ؛معاف فرمایئے گا ’آئینی ‘ صدر بن جائیں گے،یعنی اختیار سے محروم صرف دستخط کرنے کی مشین۔
وطن عزیز کے لوگ بہت خوش نصیب ہیں کہ بات اٹھارویں ترمیم تک لے گئے ،ہم نے تو اپنی ازدواجی حیثیت میں کبھی دوسری ترمیم کے بارے میں سوچا تک نہیں ہے۔ ویسے بھی ہما را شادی شدہ ہوکر ختم شدہ ہونے کا تجربہ ایسا کچھ دلربا ہر گز نہ تھا کہ ’ ڈو مورڈو مور‘ کی دعوتی صدائیں نزلہ سے بند ہمارے کانوں میں گونجتیں۔ اوپر سے بیگم نے حفظِ ماتقدم کے طور پر جو حفاظتی اقدامات کئے ہوئے تھے وہ ہمہ وقت ہمیں سہمانے اور دھمکانے کے لئے کافی سے بھی زیادہ تھے۔ اس معاملے میں بیگم کی دور اندیشی یوں امریکہ شریف کو بھی مات دیے جاتی ہے کہ ہمارے ارتکاب ِ جرم سے پہلے ہی فردِ جرم عائد ہو چکی ہوتی۔ یوسف زئی پٹھانی نے باتھ روم میں فِنائل کی تیز اثر بوتل، تنویمی طاقت والی سکون آور گولیاں اور ہمارے ائیر کنڈیشنڈ بیڈروم میں بغیر پنکھے کا قزاقی ہاتھ جیسا ہُک دکھا دکھا کر ہماری جان آدھی کر رکھی تھی۔ آپ سب سے چھپا نہیں ہے کہ ’ ہم تماشا‘ میں بیان کردہ آسف قدر ٹھرکی والے معاملے کی جانکاری کے بعد وہ پہلے ہی ہم سے ہمارے زیرِنگین ہونے کا خراج بہ شکل فسادی دھات کے کنگن وصول کر چکی تھیں اور ساتھ ہی خوب اندازہ لگا چکی تھیں کہ ہمارا بریکنگ پوائنٹ کب آتا ہے، جس کے آنے میں انتظار کی گھڑیاں کبھی بھی طویل نہ ہوئیں ۔ ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی گمان تھا کہ دھمکانا اور دہلانا اور بات ہے مگر وہ کبھی بھی کوئی ایسی حرکت نہیں کریں گی جس پر وہ ہم پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھیں، چاہے اصلی یا بناو ٹی بیہوشی کے ند لمحوں کے لئے ہی صحیح۔ مگر پھر یہ خیال بھی آتا ہے کہ پٹھان بچّی ہے، نہ جانے کس وقت کیا کر بیٹھے، کوئی خوبرو یا پھر خود کش دھماکہ ۔ ہمیں خوب جتا دیا گیا تھا کہ ( یقینی) ناکام کوشش پر ہمار ا کیا حال ہو سکتا ہے جس کا سب سے عبرت ناک پہلو یہ تھا کہ ہمیں اپنے ہاتھ کی بنی چائے خود نوش کرنا پڑے گی۔ وہ چودھری اور چودھرائن کی کہانی سے بہت متاثر ہوئیں،آنکھوں میں آنسو بھرکر ہمار ہاتھ تھام لیا’ چودھرائن بہت عظیم عورت ہیں مگر میں ایسی بالکل نہیں ہوں۔ اسی لئے آپ کسی دھوکے میں مت رہئے گا، میرا نشانہ بہت پکّا ہے ، اگر بیلن پھینک کر گھٹنے پرماروں تو وہیں لگے لگا، اور اگر طبلے کی طرح سر پر بجاؤں تو گومڑ بھی آپ کے بے بال سر سے ہی نمو دار ہو گا۔‘ پھر روہانسی ہو کر کہنے لگیں ’لیکن کسی کی بھی قسم لے لیجئے،اگر آپ کی تیمارداری میں کوئی کوتاہی کروں تو بے فکر ہو کر چٹیا پکڑ لیجئے گا۔ چاہے چھوڑ آئیں مجھے نئے والے فلیٹ میں ،میں اُف تک نہ کروں گی، بس آپ ہی کے اے ٹی ایم کارڈ سے خرچ کے پیسے نکال لیا کروں گی۔ اس وقت تک میری ساس نند یں وغیرہ حالات سنبھال ہی لیں گی۔‘ موصوفہ بیگم کو خِطّے( سسرال) میں اپنی’ اسٹری ٹیجک ڈیپتھ‘یعنی اہمیت کا خوب اندازہ تھا اور اس کا فائدہ اٹھانے کی مہار ت بھی تھی۔ ہماری جھکتی کمر میں آخری تنکا پرستانی پارلیمنٹ سے حال ہی پاس کیا گیا ’ حقوقِ نسواں بہ مخالف تشددِنسواں ‘ بِل ثابت ہوا۔ اب اس قانونی شکنجے کی مدد سے وہ بغیر کسی وجہ کے ہمیں تھانے میں بند کروانے کی مجاز تھیں اور اندھاقنون بھی ان کا ہی ساتھ دے گا۔ ہمیں یقین تھا وہ کچھ بھی کریں ، ہم ہی تفتیش کے دائرے میں پھنس جائیں گے۔ پہلے داخلی طور پر سگے رشتہ داروں کے ہاتھوں اور پھر خارجی طورپر سسرائیلیوں کے چنگل میں ۔
ہمیں خبر ہی نہ ہوئی کہ جسے دلہن بنا کر دل میں بسائے ناز برداریاں اُٹھانے کے چکر میں میں لائے تھے اس نے الٹا ہمارا ہی ’دولہا‘ بنا کر باربرداریاں شروع کر وا دیں۔
ہمار ے ہم عصر اور ہم پیالہ پیارے میاں شام کو کہہ رہے تھے کہ ’ نئی بیوی اور نئے رشتے ، نئے جوتے کی طرح ہوتے ہیں، جب تک پاؤں میں اچھی طرح فِٹ نہ ہوجائیں، کاٹتے ہی رہتے ہیں‘۔ ہم ان کی اس بات سے متفق ہیں ، کلیّ طور سے، کیوں کہ ہماری باہوش زندگی میں میں رشتوں کی کاٹ کو ہم سے بہتر کون جان سکتا ہے۔
اب تو ہمارے ہاتھوں میں تینتیس دانہ تسبیح ہے جس پر ہم ذیل میں درج شعر کا ورد کرتے ہیں اور اچھے دنوں کی آس میں دانے گھماتے ہیں :
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تد بیریں
جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں